کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رائے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
6811
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ قَالَ نَعَمْ فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ ح و حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ عَلَی دِينِکُمْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَی عَوَاتِقِنَا إِلَی أَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَی أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّونَ
عبدان، ابوحمزہ، اعمش، سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا کہ تم صفین میں موجود تھے، انہوں نے کہا کہ ہاں، پھر سہل بن حنیف کو کہتے ہوئے سنا (دوسری سند) موسی بن اسمعیل، ابوعوانہ، اعمش، ابووائل سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف نے کہا اے لوگو- اپنی رائے کو اپنے دین کے مقابلہ میں تہمت لگاؤ، (حقیر سمجھو) میں نے اپنے آپ کو ابوجندل (حدیبیہ کے دن دیکھا کہ اگر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے سرتابی کر سکتا، تو ضرور کرتا، اور ہم نے اپنے کاندھے پر تلوار اس لئے نہیں رکھی ہے کہ ہمیں خوف میں ڈالیں، بلکہ اس لیے کہ ہم کسی ایسے کام میں سہولت پہنچائیں جسے ہم جانتے ہوں نہ کہ اس کام کی طرف جس میں اس وقت ہم ہیں، ابووائل کا بیان ہے کہ میں صفین میں شریک تھا، اور صفین کی جنگ بہت بری تھی
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment