Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2159,TotalNo:6810


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رائے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
6810
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ حَجَّ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ بَعْدَ أَنْ أَعْطَاکُمُوهُ انْتِزَاعًا وَلَکِنْ يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ مَعَ قَبْضِ الْعُلَمَائِ بِعِلْمِهِمْ فَيَبْقَی نَاسٌ جُهَّالٌ يُسْتَفْتَوْنَ فَيُفْتُونَ بِرَأْيِهِمْ فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَجَّ بَعْدُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي انْطَلِقْ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَاسْتَثْبِتْ لِي مِنْهُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنْهُ فَجِئْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ کَنَحْوِ مَا حَدَّثَنِي فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا فَعَجِبَتْ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَفِظَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
سعید بن تلید، ابن وہب، عبدالرحمن بن شریح، وغیرہ، ابوالاسود، عروہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے ساتھ عبد ﷲ بن عمرو نے حج کیا، ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ﷲ تعالی علم کو اس طرح اٹھائے گا، کہ علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھایا جائے گا، تو جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے، ان سے مسئلہ دریافت کیا جائے گا، تو اپنی رائے سے اجتہاد کریں گے اور فتوی دیں گے، دوسروں کو گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے، میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے بیان کی پھرعبد ﷲ بن عمرو نے اس کے بعد حج کیا، تو حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اے میرے بھانجے تو عبد ﷲ کے پاس جا، اور میرے لئے ان سے وہ حدیث یاد کر جو تو نے مجھے بیان کی چناچہ میں ان کے پاس آیا، اور پوچھا، تو انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح بیان کیا تھا، پھر میں حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے تعجب کیا، اور کہا بخدا عبد ﷲ بن عمرو نے اسے یاد رکھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment