کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
امام کا اپنے عمال کا محاسبہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ ابْنَ الْأُتَبِيَّةِ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ فَلَمَّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاسَبَهُ قَالَ هَذَا الَّذِي لَکُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيکَ وَبَيْتِ أُمِّکَ حَتَّی تَأْتِيَکَ هَدِيَّتُکَ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْکُمْ عَلَی أُمُورٍ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ فَيَأْتِي أَحَدُکُمْ فَيَقُولُ هَذَا لَکُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّی تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ کَانَ صَادِقًا فَوَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ هِشَامٌ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا جَائَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا فَلَأَعْرِفَنَّ مَا جَائَ اللَّهَ رَجُلٌ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَائٌ أَوْ بِبَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ
محمد، عبدہ، ہشام بن عروہ، عروہ، ابوحمید، ساعدی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابن اتبیہ کو بنی سلیم کے صدقات کا عامل مقرر کیا، جب وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اور آپ نے اس سے حساب لیا تو اس نے یہ کہا کہ یہ آپ کا ہے اور یہ میرا ہے، جو مجھے ہدیہ میں ملا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیوں نہیں اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھتا کہ تیرے پاس ہدیہ آتا، اگر تو سچا ہے، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اور فرمایا ﷲ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا، اما بعد، عامل کا کیاحال ہے کہ ہم اسے عامل بنا کر بھیجتے ہیں وہ ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی تحصیل کا ہے اور یہ ہمیں ہدیہ بھیجا گیاہے، وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھتا پھر دیکھے کہ اسے ہدیہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی کوئی چیز اس میں رکھ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اس چیز کو اس طرح لے کر آئے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہو گی، اگر وہ اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوا اور اگر وہ گائے ہے تو وہ بولتی ہوئی اور بکری ہے تو وہ ممیاتی ہوئی آئے گی، میں نے (تم لوگوں) کو پہنچا دیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment