کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
کیاحاکم کے لئے جائز ہے کہ صرف ایک شخص کو حالت دریافت کرنے کے لئے بھیجے۔
حدیث نمبر
6702
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَا جَائَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَقَالُوا لِي عَلَی ابْنِکَ الرَّجْمُ فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنْ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا إِنَّمَا عَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا
آدم، ابن ابی ذئب، زہری، عبید ﷲ بن عبد ﷲ ، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وزید بن خالد جہنی سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کردیجیے، پھر اس کا مخالف فریق کھڑا ہو اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ ٹھیک کہتا ہے کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کردیجئے، اعرابی نے عرض کیا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور کرتا تھا، میرے بیٹے نے اسکی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیاجائے میں نے سوبکری اور ایک لونڈی فدیہ دے کر اس کوچھڑایا، پھرمیں نے اہل علم سے دریافت کیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن ہونا پڑے گا سنگسار تو اسکی بیوی کو کیاجائے گا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے- میں تمہارا فیصلہ کتاب ﷲ کے مطابق کروں گا تمہاری بکری اور لونڈی تمہیں واپس کی جاتی ہے اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کردیا اور انیس اسلمی کوحکم دیا کہ اس دوسرے کی بیوی کے پاس جائے، اور اسے سنگسار کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment