Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2204,TotalNo:6855


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر
6855
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِکَ مِنْ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ کَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ کَانَ ذَلِکَ حَسَنَاتٍ لَهُ وَهِيَ لِذَلِکَ الرَّجُلِ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَائً فَهِيَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحُمُرِ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
اسمعیل، مالک، زید بن اسلم، ابوصالح، سمان، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تین قسم کے لوگوں کیلئے ہے، ایک شخص کے لئے تو باعث اجر ہے دوسرے کے لئے پردہ پوشی کا ذریعہ ہے اور تیسرے کے لئے عذاب کا باعث ہے- جس کے لئے ثواب کا باعث ہے تو وہ آدمی جس نے ﷲ کی راہ میں گھوڑا باندھا اور اس کی رسی باغ چراگاہ میں ڈھیلی چھوڑ دی تو اس کی لمبائی میں اس کا چراگاہ یا باغ کے جس حصہ تک پہنچے گا اس کا اس آدمی کو ثواب ملے گا اور اگر اس نے رسی تڑالی ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے قدموں اور لید کے عوض اس کو نیکیاں ملیں گی گھوڑا ایسے آدمی کے لئے باعث اجر ہے اور وہ جس نے گھوڑا بے نیازی ظاہر کرنے اور سوال سے بچنے کے لئے باندھا اور اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ﷲ کے حق کو نہ بھولا تو اس کے لئے پردہ پوشی کا ذریعہ ہے اور جو اس کو فخر اور غرور کے لئے باندھے تو یہ اس کے لئے عذاب ہے، اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے متعلق مجھ پر جامع اور بے نظیر آیت، ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾، کے سوا کوئی آیت نازل نہیں ہوئی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment