کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
خلیفہ مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6725
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ الْآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَذَلِکَ الْغَدَ مِنْ يَوْمٍ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ وَأَبُو بَکْرٍ صَامِتٌ لَا يَتَکَلَّمُ قَالَ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَدْبُرَنَا يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَکُونَ آخِرَهُمْ فَإِنْ يَکُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَدْ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ هَدَی اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ فَإِنَّهُ أَوْلَی الْمُسْلِمِينَ بِأُمُورِکُمْ فَقُومُوا فَبَايِعُوهُ وَکَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِکَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَکَانَتْ بَيْعَةُ الْعَامَّةِ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِأَبِي بَکْرٍ يَوْمَئِذٍ اصْعَدْ الْمِنْبَرَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَبَايَعَهُ النَّاسُ عَامَّةً
ابراہیم بن موسی، ہشام، معمر، زہری حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب کہ وہ منبر پر بیٹھے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا دوسرا دن تھا، انہوں نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکر خاموش بیٹھے ہوئے تھے، کچھ نہیں بول رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ہمارے بعد انتقال فرمائیں گے، پھر اگر محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے تو ﷲ نے تمہارے سامنے نور پیدا کر دیا ہے کہ جس کے ذریعے تم ہدایت پاتے ہو، جس سے ﷲ تعالی نے حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت کی بے شک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جو غار میں دوسرے ساتھی تھے مسلمانوں میں سے تمہارے امور کے مالک ہونے کے زیادہ مستحق ہیں، اس لئے اٹھو اور ان کی بیعت کرو، ان میں سے ایک جماعت اس سے پہلے سقیقہ بنی ساعدہ ہی میں بیعت کر چکی تھی، اور عام بیعت منبر پر ہوئی، زہری نے حضرت انس بن مالک، کا قول نقل کیا ہے، کہ میں نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اس دن سنا کہ حضرت ابوبکر سے کہتے ہوئے کہ منبر پر چڑھیے اور برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ منبر پر چڑھے اور لوگوں نے عام بیعت کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment