کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
خلیفہ مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6723
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَارَأْسَاهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکِ لَوْ کَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَکِ وَأَدْعُو لَکِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَا ثُکْلِيَاهْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّکَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ کَانَ ذَاکَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِکَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَی اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَی الْمُؤْمِنُونَ
یحییٰ بن یحییٰ، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، قاسم بن محمدسے روایت کرتے ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سر کے درد کی شدت سے بولیں، ہائے سر، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مر جائے اور میں زندہ رہوں تو میں تیرے لئے مغفرت چاہوں اور تیرے لئے دعا کروں، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ میری ماں تجھ کو گم کرے، خدا کی قسم، میرا خیال ہے کہ آپ میری موت کی تمنا کریں گے، اور اگر ایسا ہوا، میرا خیال ہے کہ آپ میری موت کی تمنا کرتے ہیں اور اگر ایسا ہوا، تو آخر آپ شام کو اپنی بعض بیویوں کے ساتھ عیش میں مشغول ہوں گے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ میں ہائے سر کہتا ہوں میں نے قصد کیا، یا ارادہ کیا کہ ابوبکر اور ان کی بیٹی کو بلا بھیجوں تاکہ میں خلیفہ مقرر کروں، تاکہ کوئی کہنے والا یا تمنا کرنے والا تمنا نہ کرے، پھر میں نے کہا کہ ﷲ انکار کرے گا اور مومن دفع کریں گے یا ﷲ دفع کرے گا اور مومن انکار کریں گے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment