کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس شخص کے خلاف دلیل جو اس کا قائل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے (تمام صحابہ کو معلوم تھے)
حدیث نمبر
6853
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْأَعْرَجِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّکُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُکْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي کُنْتُ امْرَأً مِسْکِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِلْئِ بَطْنِي وَکَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَکَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَی أَمْوَالِهِمْ فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَالَ مَنْ يَبْسُطْ رِدَائَهُ حَتَّی أَقْضِيَ مَقَالَتِي ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسَی شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ بُرْدَةً کَانَتْ عَلَيَّ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ
علی، سفیان، زہری، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان کو کہتے ہوئے سنا کہ کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے، خدا کے سامنے ایک دن جانا ہے، میں ایک مسکین آدمی تھا، صرف پیٹ بھر کر کھا کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میں ہر وقت موجود رہتا تھا، مہاجرین تو بازار میں خرید و فروخت میں مشغول رہتے تھے، اور انصار اپنے مال کے انتظام میں مصروف رہتے تھے، ایک دن میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی چادر میری گفتگو ہونے تک پھیلائے رکھے پھر اس کو سمیٹ لے تو جو کچھ مجھ سے سنے گا اس کو کبھی نہ بھولے گا مجھ پر چادر تھی اسکو میں نے بچھا دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے جو کچھ میں نے آپ سے سنا اس میں سے کچھ نہیں بھولا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment