Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2156,TotalNo:6807


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ باہم جھگڑا اور اس میں تعمق اور دین میں غلو اور بدعت مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
6807
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَوْسٍ النَّصْرِيُّ وَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَکَرَ لِي ذِکْرًا مِنْ ذَلِکَ فَدَخَلْتُ عَلَی مَالِکٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ انْطَلَقْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی عُمَرَ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَأَذِنَ لَهُمَا قَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ اسْتَبَّا فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ فَقَالَ اتَّئِدُوا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِکَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي مُحَدِّثُکُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ کَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ بِشَيْئٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ مَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ الْآيَةَ فَکَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْکُمْ وَقَدْ أَعْطَاکُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيکُمْ حَتَّی بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِکَ فَقَالُوا نَعَمْ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُکُمَا اللَّهَ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا أَبُو بَکْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ فِيهَا کَذَا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّهُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَکَلِمَتُکُمَا عَلَی کَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ وَأَمْرُکُمَا جَمِيعٌ جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَکَ مِنْ ابْنِ أَخِيکِ وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا عَلَی أَنَّ عَلَيْکُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَکْرٍ وَبِمَا عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا وَإِلَّا فَلَا تُکَلِّمَانِي فِيهَا فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا بِذَلِکَ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا بِذَلِکَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِکَ قَالَ الرَّهْطُ نَعَمْ فَأَقْبَلَ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا بِذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَائً غَيْرَ ذَلِکَ فَوَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَائً غَيْرَ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ فَأَنَا أَکْفِيکُمَاهَا
عبد ﷲ بن یوسف، لیث، عقیل، ابن شہاب، مالک بن اوس، نصری سے روایت کرتے ہیں (محمد بن جبیر بن مطعم نے بھی اس کا ذکر کیا تھا، کہ میں مالک کے پاس گیا، ان سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں چلا، تاکہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤں ، (میں پہنچا) تو ان کا دربان یرفاء آیا اور پوچھا، کیا حضرت عثمان اور عبدالرحمن اور زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور سعد کو اندر آنے کی اجازت دیتے ہیں، انہوں نے کہا ہاں- چناچہ وہ لوگ اندر آئے سلام کیا اور بیٹھ گئے پھر یرفاء نے کہا کہ حضرت علی و حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اجازت دیتے ان دونوں کو بھی اندر آنے کی اجازت دی، حضرت عباس نے کہا کہ اے امیرالمومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں، اور ایک دوسرے سے نجات پالیں، حضرت عمرنے ان سے کہا کہ صبر کرو، میں تمہیں ﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہو گا، ہم نے جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے، اور یہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اپنی ذات کے متعلق فرمایا ان لوگوں نے ہاں آپ نے فرمایا ہے، پھر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ، حضرت علی و عباس کی طرف متوجہ ہوئے، اور کہا کہ میں آپ دونوں کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ نے یہ فرمایا، انہوں نے کہا ہاں- حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تم لوگوں سے اس کی حقیقت بیان کر دوں، ﷲ نے اپنے رسول کو اس مال میں سے ایک مخصوص حصہ عطا کیا جو آپ کے علاوہ کسی کو نہیں دیا، اس لئے کہ ﷲ تعالی فرماتے ہیں، (ما افاء ﷲ علی رسولہ منھم فما او جفتم) تو یہ خاص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھا، پھر خدا کی قسم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں پر ترجیح دی بلکہ یہ تمہیں کو دے دیا، اور تمہیں میں تقسیم کرتا ہوں- حتی کہ اس میں یہ باقی مال بچ گیا، اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچہ رکھتے تھے، پھر باقی کو ﷲ کے راستے میں خرچ کر دیتے تھے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی بھر اس طرح کیا، میں تم لوگوں کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم لوگ اس کو جانتے ہو، انہوں نے کہا ہاں، پھر ﷲ نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا لیا، تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ولی ہوں، چناچہ اس پر انہوں نے قبضہ کر لیا، اور جس طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے، اسی طرح انہوں نے بھی کیا، اور حضرت علی و ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں اس وقت موجود تھے، اور آپ کے دونوں گمان کرتے تھے، کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ایسے ایسے ہیں، حالانکہ ﷲ جانتا ہے، کہ وہ اس معاملہ میں سچے تھے، نیک تھے، راستے پر تھے حق کے تابع تھے، پھر ﷲ نے ابوبکر کو اٹھا لیا تو میں نے کہا میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے کہا کہ پھر آپ میرے پاس آئے اور آپ دونوں کی بات یکساں تھی، اور کام بھی ایک تھا، آپ اپنے بھتیجے کے مال سے حصہ مانگنے آئے، اور یہاں پر بیوی کا حصہ اپنے والد کے مال سے مانگنے کے لئے آئے تو میں نے کہا کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں آپ کو اس شرط پر دوں گا کہ آپ ﷲ کے عہد و میثاق کے مطابق اس میں عمل کریں، جس طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کرتے تھے، اور جس طرح میں اپنے قبضے میں لینے کے وقت سے عمل کرتا رہا ہوں، ورنہ پھر اس معاملے میں مجھ سے گفتگو نہ کیجئے، تو آپ دونوں نے کہا کہ ہمیں اس شرط پر دیدو، پھر میں نے آپ کو دیدیا، پھر دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، فرمایا کہ میں تم لوگوں کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ میں نے یہاں دونوں کو دیدیا تھا؟ ان لوگوں ہاں- حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ مجھ سے اس کے علاوہ کوئی فیصلہ چاہتے ہیں، تو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اور جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں قیامت تک اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہ کروں گا، اگرآپ اس کے انتظام سے عاجز ہیں تو ہمیں واپس کر دیجئے میں آپ کی طرف سے اس کا انتظام کروں گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment