کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
جھگڑنے والوں کے لئے قاضی کی گواہی حاکم کے سامنے ہونی چاہئے
حدیث نمبر
6682
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَی عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَی قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَی قَتِيلِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي فَذَکَرْتُ أَمْرَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْکُرُ عِنْدِي قَالَ فَأَرْضِهِ مِنْهُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ کَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَکَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ اللَّيْثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ وَقَالَ أَهْلُ الْحِجَازِ الْحَاکِمُ لَا يَقْضِي بِعِلْمِهِ شَهِدَ بِذَلِکَ فِي وِلَايَتِهِ أَوْ قَبْلَهَا وَلَوْ أَقَرَّ خَصْمٌ عِنْدَهُ لِآخَرَ بِحَقٍّ فِي مَجْلِسِ الْقَضَائِ فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي عَلَيْهِ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ حَتَّی يَدْعُوَ بِشَاهِدَيْنِ فَيُحْضِرَهُمَا إِقْرَارَهُ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا سَمِعَ أَوْ رَآهُ فِي مَجْلِسِ الْقَضَائِ قَضَی بِهِ وَمَا کَانَ فِي غَيْرِهِ لَمْ يَقْضِ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ وَقَالَ آخَرُونَ مِنْهُمْ بَلْ يَقْضِي بِهِ لِأَنَّهُ مُؤْتَمَنٌ وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنْ الشَّهَادَةِ مَعْرِفَةُ الْحَقِّ فَعِلْمُهُ أَکْثَرُ مِنْ الشَّهَادَةِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَقْضِي بِعِلْمِهِ فِي الْأَمْوَالِ وَلَا يَقْضِي فِي غَيْرِهَا وَقَالَ الْقَاسِمُ لَا يَنْبَغِي لِلْحَاکِمِ أَنْ يُمْضِيَ قَضَائً بِعِلْمِهِ دُونَ عِلْمِ غَيْرِهِ مَعَ أَنَّ عِلْمَهُ أَکْثَرُ مِنْ شَهَادَةِ غَيْرِهِ وَلَکِنَّ فِيهِ تَعَرُّضًا لِتُهَمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ وَإِيقَاعًا لَهُمْ فِي الظُّنُونِ وَقَدْ کَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظَّنَّ فَقَالَ إِنَّمَا هَذِهِ صَفِيَّةُ
قتیبہ، لیث، یحییٰ، عمر بن کثیر، ابومحمد (ابوقتادہ کہ مولی) سے روایت کرتے ہیں ابوقتادہ نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا کہ جس شخص نے کسی کو قتل کیا اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس مقتول کا مال اس کو ملے گا، ابوقتادہ نے کہا کہ میں کھڑا ہوا تاکہ اپنے مقتول پر کوئی گواہ پیش کروں لیکن میں نے کسی کو نہیں پایا جو گواہی دے، چناچہ میں بیٹھ گیا پھرمجھے خیال ہوا کہ میں نے اس کا حال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا ان بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ جس مقتول کا ذکر کر رہے ہیں اس ہتھیار تو میرے پاس ہے، آپ انکو مجھ سے راضی کردیں، حضرت ابوبکر نے کہا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا، کہ آپ قریش کے ایک رنگ کو دے دیں گے اور ﷲ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں گے، جو ﷲ اور اس کے رسول کی طرف جنگ کرتا ہے ابوقتادہ کا بیان ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے وہ ہتھیار مجھے دیدئیے، میں نے اس سے باغ خرید لیا، وہ سب سے پہلا مال تھا جومیں نے حاصل کیا، عبد ﷲ ، لیث، سے روایت کرتے ہیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور وہ مجھے دلایا اور اہل حجاز کا قول ہے کہ حاکم اپنے علم کی بناء پر فیصلہ نہ کرے خواہ وہ قاضی بننے کے بعد یا اس سے پہلے اس کا گواہ فریق مخالف اس کے نزدیک کسی کے حق کا اقرار مجلس کی قضا میں کرے تو بعض حجازیوں کے نزدیک اس پر فیصلہ نہ کیا جائے گا جب تک دوگواہوں کو بلاکر ان کی موجودگی میں اقرار نہ کیا جائے اور بعض عراقیوں کا قول ہے کہ مجلس قضاء میں کچھ دیکھے یاسنے تو اس پر فیصلہ کردے، اس مجلس کے علاوہ میں کوئی بات دیکھے تو دوگواہوں کے بغیر فیصلہ نہ کرے اور انہیں میں سے بعض کا قول ہے کہ وہ فیصلہ کرے اس لئے کہ وہ امانت دار ہے اور شہادت کامقصد اصل حقیقت کا جاننا ہے، اور اس کے علم کا مرتبہ شہادت سے زیادہ ہے بعض عراقیوں کا قول ہے کہ مال میں اپنے علم کی بناء پرفیصلہ کردے، اس کے علاوہ میں نہیں، قاسم کا قول ہے کہ حاکم کے لئے مناسب نہیں کہ اپنے علم سے بغیر گواہوں کے فیصلہ کردے باوجود اس کے کہ اس کوعلم دوسروں کی گواہی سے زیادہ بلند مرتبہ رکھتا ہے، لیکن اس سے مسلمانوں کے دل میں تہمت کا خیال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس کے باعث گمان میں پڑجانے کا خطرہ ہے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ظن کو مکروہ سمجھا ہے، چناچہ انہوں نے (ایک بار جب کہ حضرت صفیہ کے ساتھ تھے) فرمایا کہ یہ صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment