Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2154,TotalNo:6805


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ باہم جھگڑا اور اس میں تعمق اور دین میں غلو اور بدعت مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
6805
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِکَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُکَائِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَکْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِکَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُکَائِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا کُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْکِ خَيْرًا
اسماعیل، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ام المومنین سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا کہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے، میں نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آپکی جگہ کھڑے ہوں گے، تو لوگ ان کے رونے کے سبب سے ان کی آواز نہ سن سکیں گے، اس لئے آپ حضرت عمر کوحکم دیں کہ نماز پڑھائیں، آپ نے فرمایا کہ ابوبکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے حفصہ سے کہا کہ تم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرو کہ حضرت ابوبکر جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو ان کے رونے کے سبب سے لوگ ان کی آواز سن نہ سکیں گے، لہذا عمر کو حکم دیجئے کہ وہ نماز پڑھائیں چناچہ حفصہ نے ایسا ہی کیا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم یوسف کی ساتھی عورتیں ہوں ابوبکر کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment