کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ باہم جھگڑا اور اس میں تعمق اور دین میں غلو اور بدعت مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
6804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ کَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِکَا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ لَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلَافَکَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ عَظِيمٌ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَکَانَ عُمَرُ بَعْدُ وَلَمْ يَذْکُرْ ذَلِکَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَکْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ کَأَخِي السِّرَارِ لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّی يَسْتَفْهِمَهُ
محمد بن مقاتل، وکیع، نافع، بن عمر، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی جو سب سے بہتر تھے، یعنی حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہلاک ہو جاتے جب بنی تمیم کا وفد آیا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو ان میں سے ایک نے بنی مجاشع، کے بھائی اقرع بن جابس حنظلی کی طرف اشارہ کیا اور ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا حضرت ابوبکر نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم میری مخالفت کا ارادہ کرتے ہو، حضرت عمر نے کہا کہ میرا ارادہ آپ کی مخالف کا نہ تھا، چناچہ ان کی آوازیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک بلند ہوئیں، تو یہ آیت نازل ہوئی، اے ایمان والو، اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو، آخر آیت عظیم تک، ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اے بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اس قدر آہستہ کرتے کہ آپ اس کو سن نہ سکتے جب تک کہ آپ پھر دریافت نہ فرماتے، اورابن زبیر نے اپنے والد (یعنی نانا) حضرت ابوبکر کا ذکر نہیں کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment