کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
جب حاکم ظلم سے یا اہل علم کے خلاف فیصلہ کرے تو وہ مردود ہے
حدیث نمبر
6698
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدًا ح و حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَی بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ وَدَفَعَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَأَمَرَ کُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَرَّتَيْنِ
محمود، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خالد کو بھیجا (دوسری سند) نعیم، عبد ﷲ ، معمر، زہری، سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید کو بنی جذیمہ کے پاس بھیجا تو وہ لوگ اچھی طرح نہیں کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے بلکہ ان لوگوں نے کہا کہ ہم دین سے پھر گئے، چناچہ حضرت خالد قتل اور قید کرنے لگے اور ہم سے ہر شخص کو قیدی دیے، اور ہم میں سے ہرایک کو حکم دیا کہ اپنے قیدی کو قتل کردے، تو میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کوقتل کرے گا، ہم نے یہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یا ﷲ میں تیرے سامنے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں جو خالد نے کیا آپ نے یہ دو مرتبہ فرمایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment