Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1791,TotalNo:4327


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تحقیق آیا تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے کہ اس پر تمہاری تکلیف دشوار گزرتی ہے۔
حدیث نمبر
4327
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَکَانَ مِمَّنْ يَکْتُبُ الْوَحْيَ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ وَإِنِّي أَخْشَی أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّائِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ کَثِيرٌ مِنْ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ وَإِنِّي لَأَرَی أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ قُلْتُ لِعُمَرَ کَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِکَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَی عُمَرُ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَکَلَّمُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ وَلَا نَتَّهِمُکَ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ فَوَاللَّهِ لَوْ کَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ کَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنْ الرِّقَاعِ وَالْأَکْتَافِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّی وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْکُمْ إِلَی آخِرِهِمَا وَکَانَتْ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَکْرٍ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَقَالَ مُوسَی عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فان تولوا فقل حسبی الله لااله الاهوعليه توکلت وهورب العرش العظيم
ابو الیمان، شعیب، زہری، ابن سباق، حضرت زید بن ثابت انصاری جو کہ کاتب وحی تھے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں کسی کو میرے پاس بھیجا اس وقت جنگ یمامہ ہو رہی تھی میں آپ کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا ہے کہ یمامہ کی لڑائی زوروں پر ہے ایسا نہ ہو کہ حفاظ شہید ہو جائیں قرآن کا اکثر حصہ ضائع ہوجائے لہذا میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ وہ ایک جگہ جمع کردیا جائے میں نے یہ جواب دیا کہ میں یہ کام کس طرح کروں جب کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا مگر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بہت اصرار کیا اور کہا کہ جمع کر لینا چاہئے آخر میری رائے بھی یہی ہو گئی ہے- زید کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ یہ تقریر خاموشی سے سنتے رہے- اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا کہ دیکھو تم جوان اور عقل والے آدمی ہو ہم تم کو سچا جانتے ہیں کیونکہ تم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی قرآن کو لکھا کرتے تھے لہذا تم ہی اس کام کو انجام دے دو خدا کی قسم ہے کہ مجھے یہ کام اس قدر گراں معلوم ہوا کہ ایک پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اس کے سامنے آسان نظر آیا ور میں نے جواب میں کہا کہ جب ایک کام آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا تو میں کیسے کروں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اصرار کرنے کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اچھا اب یہ راز مجھ پر بھی کھل گیا ہے اور میری بھی وہی رائے ہوگی جو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی رائے تھی بس کہیں کھجور کی شاخ کے پٹھے پر اور کہیں لوگوں کے دلوں میں محفوظ پایا حتیٰ کہ سورۃ توبہ کو خزیمہ انصاری کے پاس جمع کیا انہیں کے پاس سورہ توبہ کی دو آیات لکھی دیکھیں جو کسی کے پاس نہ تھیں ایک تو یہ کہ( لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ) اور دوسری یہ آیت (فَاِن تَوَ لَّوا فَقُل ۔الخ) اور قرآن کا جمع کردہ نسخہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس رہا پھر ان کے انتقال کے بعد حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا پھر ان کے بعد حضرت حفصہ بنت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان ابن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی اس میں خزیمہ کی جگہ ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اس میں بھی ابوخزیمہ ہے موسیٰ کے ساتھ اس کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا- ثابت کا بیان ہے کہ ابراہیم نے کہا کہ اس حدیث میں صرف خزیمہ، ابوخزیمہ کا شک ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment