Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1789,TotalNo:4325


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ نے ان تین آدمیوں پر بھی مہربانی فرمائی۔
حدیث نمبر
4325
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ وَغَزْوَةِ بَدْرٍ قَالَ فَأَجْمَعْتُ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًی وَکَانَ قَلَّمَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ سَافَرَهُ إِلَّا ضُحًی وَکَانَ يَبْدَأُ بِالْمَسْجِدِ فَيَرْکَعُ رَکْعَتَيْنِ وَنَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کَلَامِي وَکَلَامِ صَاحِبَيَّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ کَلَامِ أَحَدٍ مِنْ الْمُتَخَلِّفِينَ غَيْرِنَا فَاجْتَنَبَ النَّاسُ کَلَامَنَا فَلَبِثْتُ کَذَلِکَ حَتَّی طَالَ عَلَيَّ الْأَمْرُ وَمَا مِنْ شَيْئٍ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ يَمُوتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُونَ مِنْ النَّاسِ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَةِ فَلَا يُکَلِّمُنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ وَلَا يُصَلِّي وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَوْبَتَنَا عَلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَقِيَ الثُّلُثُ الْآخِرُ مِنْ اللَّيْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ وَکَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً فِي شَأْنِي مَعْنِيَّةً فِي أَمْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ تِيبَ عَلَی کَعْبٍ قَالَتْ أَفَلَا أُرْسِلُ إِلَيْهِ فَأُبَشِّرَهُ قَالَ إِذًا يَحْطِمَکُمْ النَّاسُ فَيَمْنَعُونَکُمْ النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ حَتَّی إِذَا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ آذَنَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَکَانَ إِذَا اسْتَبْشَرَ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّی کَأَنَّهُ قِطْعَةٌ مِنْ الْقَمَرِ وَکُنَّا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ خُلِّفُوا عَنْ الْأَمْرِ الَّذِي قُبِلَ مِنْ هَؤُلَائِ الَّذِينَ اعْتَذَرُوا حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ لَنَا التَّوْبَةَ فَلَمَّا ذُکِرَ الَّذِينَ کَذَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُتَخَلِّفِينَ وَاعْتَذَرُوا بِالْبَاطِلِ ذُکِرُوا بِشَرِّ مَا ذُکِرَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِکُمْ وَسَيَرَی اللَّهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ الْآيَةَ
محمد، احمد بن ابی شعیب، موسیٰ بن اعین، اسحٰق بن راشد، زہری، عبدالرحمٰن بن عبد ﷲ بن کعب بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی لڑائی میں کبھی پیچھے نہیں رہا مگر سوائے دو لڑائیوں کے ایک جنگ بدر اور دوسرے جبگ تبوک چناچہ جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جنگ تبوک سے واپسی کے وقت مدینہ میں تشریف لائے تو میں بہانہ کرنے کے بجائے سچ کہنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا آپ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اکثر چاشت کے وقت تشریف لایا کرتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے- آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو میرے اور میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ بات کرنے سے روک دیا تھا مگر دوسرے رہ جانے والوں سے نہیں روکا تھا چناچہ لوگ ہم تینوں سے الگ رہتے اور بات تک نہ کرتے مجھے اس بات کا بہت غم تھا کہ کہیں اسی حال میں میں مر نہ جاؤں اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر نماز جنازہ بھی نہ پڑھیں یا خدا نخواستہ خود آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہی دنیا سے سفر فرما جائیں اور پھر سب کا ہمارے ساتھ ایساہی برتاؤ رہے اور لوگ نہ ہمارے ساتھ کلام کریں اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھیں آخر پچاس دن کے بعد ﷲ تعالیٰ نے ہم پر کرم فرمایا اور ایک دن صبح ہی صبح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہماری توبہ کے قبول ہونے کے متعلق وحی نازل کی گئی اس وقت آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے یہاں تھے اور وہ ہماری بہت سفارش کیا کرتی تھیں- چناچہ آپ نے حضرت ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ کعب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی توبہ قبول ہوگئی ہے ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ میں ان کے پاس کس کو بھیجوں جو جاکر انہیں خبر کردے؟ آپ نے فرمایا اس وقت سب لوگ جمع ہو جائیں گے اور پھر تم کو تمام رات سونا بھی نصیب نہ ہوگا چناچہ صبح کی نماز کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس بات کی خبر کردی آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے چاند کی طرح چمک رہا تھا اور ہر خوشی کے وقت آپ کا چہرہ اسی طرح چمکنے لگتا تھا- ہم تینوں آدمی تمام منافقوں سے توبہ کے قبول ہونے میں پیچھے رہ گئے تھے جب تک کہ ﷲ تعالیٰ نے ان سب کیلئے ایسا برا بھلا کہا کہ کسی کیلئے نہیں کہا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل فرمائی يَعْتَذِرُونَ إِلَيْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا ) الخ یعنی جب تم ان کے پاس جاؤ گے تو یہ جھوٹے بہانے بنائیں گے- اے رسول! آپ فرما دیجئے کہ اے منافقو! عذر مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ جانیں گے ﷲ نے تمہاری سب باتوں کی ہمیں خبر کردی ہے ﷲ اور رسول اب تمہارے اعمال دیکھیں گے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment