کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا۔
حدیث نمبر
4381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ کُنْتُ قَيْنًا بِمَکَّةَ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أُعْطِيکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قُلْتُ لَا أَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يُمِيتَکَ اللَّهُ ثُمَّ يُحْيِيَکَ قَالَ إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي کَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمْ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا قَالَ مَوْثِقًا لَمْ يَقُلْ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ سَيْفًا وَلَا مَوْثِقًا
محمد بن کثیر، سفیان، اعمش، ابوالضحیٰ، مسروق، حضرت خباب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں مکہ میں لوہے کا کام کیا کرتا تھا میں نے عاص بن وائل کے لئے ایک تلوار بنائی پھر ایک دن اس کے پاس پہنچا اور اجرت طلب کی تو اس نے کہا کہ تم جب تک محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو برا نہیں کہو گے میں اجرت نہیں دوں گا میں نے کہا کہ میں تو ان کے ساتھ کوئی گستاخی اس وقت تک بھی نہیں کروں گا جب تک کہ ﷲ تجھے مار کر بھی زندہ کردے عاص نے کہا: کیا ﷲ مارنے کے بعد بھی زندہ کرے گا؟ اور اگر کرے گا تو پھر میں وہاں بھی صاحب مال و عیال ہونگا اس وقت دے دونگا چناچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اشجعی نے سفیان سے جو روایت کی ہے اس میں تلوار کاذکر نہیں ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment