کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب حضرت یوسف کے پاس بادشاہ کا آدمی آیا۔
حدیث نمبر
4342
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي
سعید بن تلید، عبدالرحمن بن قاسم، بکر بن مضر، عمرو بن حارث، یونس بن یزید، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ حضرت لوط پر رحم فرمائے انہوں نے قوم کی دشمنی سے مجبور ہوکر کسی طاقتور مددگار کی تمنا کی تھی اور جتنے عرصہ تک حضرت یوسف قید میں رہے اگر میں رہتا تو رہائی کے حکم کو مان لیتا اور بلانے والے کے ہمراہ فوراً چلا جاتا اور ہم کو حضرت ابراہیم سے زیادہ شک کرنا سزاوار ہے جب کہ ﷲ نے ان سے فرمایا کہ کیا تمہیں ہمارے مردے زندہ کرنے پر یقین نہیں؟ تو کہا کہ ضرور ہے مگر یہ اطمینان قلب کے لئے چاہتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment