کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہاں تک کہ جب رسول اللہ نا امید ہو گئے۔
حدیث نمبر
4343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی حَتَّی إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ قَالَ قُلْتُ أَکُذِبُوا أَمْ کُذِّبُوا قَالَتْ عَائِشَةُ کُذِّبُوا قُلْتُ فَقَدْ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ کَذَّبُوهُمْ فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِي لَقَدْ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِکَ فَقُلْتُ لَهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ کُذِبُوا قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَکُنْ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِکَ بِرَبِّهَا قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ فَطَالَ عَلَيْهِمْ الْبَلَائُ وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمْ النَّصْرُ حَتَّی إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ کَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنَّتْ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ کَذَّبُوهُمْ جَائَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِکَ
عبدالعزیز بن عبد ﷲ، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ لفظ ''کذبوا'' تشدید کے ساتھ ہے یا بلا تشدید کے؟ فرمایا مشدد ہے میں نے عرض کیا کہ جب انبیائے کرام نے یقین کرلیا تھا کہ اب قوم ان کو جھٹلائے گی تو پھر ''ظنوا'' کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا ہاں قسم ہے کہ انہوں نے یقین کرلیا تھا کیونکہ ظن یقین کے معنی دیتا ہے میں نے عرض کیا کہ "کذبوا'' تشدید کے معنی کیا ہوتے ہیں فرمایا معاذ ﷲ! رسول کبھی ﷲ کی طرف جھوٹ کا گمان نہیں کیا کرتے تھے میں نے کہا تو پھر اس صورت میں معنی کیا ہوں گے آپ نے فرمایا ﷲ کے رسولوں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی بات کی تصدیق کی پھر ان کو کافروں نے ستایا اور ایک مدت تک ان پر مصیبت آتی رہی اور ﷲ کی مدد آنے میں دیر لگی اور رسول جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے اور ان کو یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ یہ ایمان لانے والے بھی اب تو ہمیں جھوٹا خیال کرنے لگیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل فرمائی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment