کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اللہ تعالی کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے۔
حدیث نمبر
5695
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّکُمْ مَا صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْمَرِيضَ وَالْکَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
مسدد، یحییٰ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، ابومسعود رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مندلوگ بھی ہوتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment