کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
جواب میں لبیک و سعدیک کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5850
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا وَاللَّهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَائً اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي عَلَيَّ لَيْلَةٌ أَوْ ثَلَاثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا وَأَرَانَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْأَکْثَرُونَ هُمْ الْأَقَلُّونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا ثُمَّ قَالَ لِي مَکَانَکَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّی أَرْجِعَ فَانْطَلَقَ حَتَّی غَابَ عَنِّي فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَخَشِيتُ أَنْ يَکُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْرَحْ فَمَکُثْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ عُرِضَ لَکَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَکَ فَقُمْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ لِزَيْدٍ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَبُو الدَّرْدَائِ فَقَالَ أَشْهَدُ لَحَدَّثَنِيهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ نَحْوَهُ وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ يَمْکُثُ عِنْدِي فَوْقَ ثَلَاثٍ
عمر بن حفص، حفص، اعمش، زید بن وہب، ابوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشاء کے وقت مقام حرہ سے گزر رہا تھا ہمارے سامنے احد کی پہاڑی میں آئی تو آپ نے فرمایا کہ اے بوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مجھے پسند نہیں کہ احد کے برابر میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات یا تین راتیں گزر جائیں، اس حال میں کہ میرے پاس اس میں سے بجز قرض کے ایک دینار کے بھی ہو مگر یہ کہ اس کو ﷲ کہ بندوں پر اس طرح اور اس طرح خرچ کروں، اور اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا پھر فرمایا اے ابوذر میں نے لبیک و سعد لبیک یا رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایا (دنیا میں) زیادہ مال والے (آخرت میں) تنگدست ہوں گے مگر جو لوگ اس طرح اور اس طرح خرچ کریں پھر مجھ سے فرمایا کہ تم اس جگہ ٹھہرے رہو اے ابوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جب تک میں نہ آؤں تم اسی جگہ رہو چناچہ آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ میری نگاہ سے اوجھل ہو گئے میں نے ایک آواز سنی مجھے خوف ہوا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی حادثہ پیش آیا اس لئے میں نے چلنا چاہا پھر مجھے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا قول یاد آیا کہ یہیں ٹھہرے رہو چناچہ میں رک گیا جب آپ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک آواز سنی اس لئے مجھے خوف ہوا کہ کہیں آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حادثہ تو پیش نہیں آیا (میں نے آنا چاہا) پھر مجھے آپ کا حکم یاد آیا کہ یہیں ٹھہرے رہو چناچہ میں ٹھہرا رہا آپ نے فرمایا وہ جبریل تھے جو میرے پاس آئے تھے انہوں نے خبر دی کہ میری امت میں سے جو شخص ﷲ کا کسی کو شریک نہ بنائے اور وہ مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے، آپ نے فرمایا اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے، راوی کا بیان ہے کہ میں نے زید سے کہا کہ مجے معلوم ہوا کہ وہ ابوالدرداء تھے انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھ سے ابوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ربذہ میں بیان کیا عمش نے کہا، مجھ سے ابوصالح نے انہوں نے ابوالدرداء سے اس کے مثل نقل کیا اور ابوشہاب نے اعمش سے یمکث عندی فوق ثلاث کے لفظ نقل کئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment