کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
امام کا یہ کہنا کہ اے اللہ اصل حقیقت ظاہر کردے
حدیث نمبر
4942
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُکِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِکَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَکَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا کَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَکَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ کَانَتْ تُظْهِرُ السُّوئَ فِي الْإِسْلَامِ
اسماعیل، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن القاسم، قاسم بن محمد، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے لعان کرنے والوں کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی نے اس کے متعلق بڑا بول بولا، پھر وہ لوٹ کر گھر آیا تو اس کے پاس اس کی قوم کا ایک شخص آیا اور اس نے بیان کیا میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک مرد کو پایا، عاصم نے کہا کہ میرا بڑا بول میرے سامنے آیا اور اس کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور اس شخص کے متعلق آپ سے بیان کیا جس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تھا اور وہ (دعوی کرنے والا) زرد چہرے والا کم گوشت والا (دبلا) اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس شخص کو اپنی بیوی کے پاس دیکھا تھا وہ زیادہ گوشت والا (فربہ) اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اے ﷲ! اصل حقیقت ظاہر کردے، چناچہ وہ عورت اس مرد کے مشابہ بچہ جنی جس کے متعلق اس کے شوہر نے دعوی کیا تھا کہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان دونوں سے لعان کرایا، ایک شخص جواس مجلس میں تھا نے ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے پوچھا کہ کیا وہ وہی عورت تھی جس کے متعلق آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگرمیں کسی کو گواہی کے بغیر سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں وہ دوسری عورت تھی، جواسلام میں علانیہ برائی کرتی تھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment