کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
یتیم لڑکی کے نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4777
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَهَا يَا أُمَّتَاهْ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی إِلَی قَوْلِهِ مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَکُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا فَنُهُوا عَنْ نِکَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَةُ اسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِکَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَکُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ فَکَمَا يَتْرُکُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْکِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَی مِنْ الصَّدَاقِ
ابوالیمان، شعیب، زہری، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر کہتے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے دریافت کیا کہ اے اماں جان! (وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی) الآیہ کا مطلب کیا ہے، انہوں نے جواب دیا اے بھانجے! اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو ولی کی پرورش میں ہو اور وہ اس کے مال وجمال کی وجہ سے اس کی رغبت کرے اور مہر تھوڑا دینا چاہے، تو ﷲ تعالی نے ان سے کمی مہر پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے، ان کے ماسوا جن عورتوں سے چاہو نکاح کرلو، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے فتوی مانگا تھا تو ﷲ تعالی نے اس وقت یہ آیت (وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ) الآیۃ نازل کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم یتیم بچی کو تھوڑے مال کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہو اور دوسری سے بیاہ کرلیتے ہو تو تم کو لازم ہے کہ جو زیادہ مالدار اور حسین ہو ان سے بھی نکاح نہ کرو، ان کے لئے پورا پورا انصاف کرو اور ان کا ٹھیک ٹھیک حق دے دو، تو پھر یہ ادائے حق اور نکاح جائز ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment