Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:5,TotalNo:4656


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
 سورۃ فتح کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر
4656
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْئٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَقَالَ عُمَرُ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلَّ ذَلِکَ لَا يُجِيبُکَ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّکْتُ بَعِيرِي حَتَّی کُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا
اسماعیل، مالک، زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی سفر میں رات کے وقت چل رہے تھے اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہ آپ کے ساتھ تھے، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے انہیں جواب نہیں دیا، پھر پوچھا، پھرجواب نہیں دیا، پھر حضرت عمر نے آپ سے پوچھا، آپ نے کچھ جواب نہیں دیا، حضرت عمر نے دل میں کہا اے عمر رضی ﷲ عنہ! تیری ماں تجھ پر روئے تو نے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے تین بار سوال کیا، مگر آپ نے ایک بار بھی جواب نہیں دیا، شاید حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ناراض ہوگئے ہیں، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے اونٹ کو ہٹا کر لوگوں سے آگے بڑھ گیا اور میں ڈر رہا تھا کہ کہیں میرے حق میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہوجائے، میں تھوڑی دیربھی ٹھہرنے نہیں پایا تھا کہ میں نے سنا کہ کوئی مجھے پکار رہاہے، میں ڈر گیا کہ کہیں میرے حق میں قرآن نہ اترا ہو پھر میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ کے پاس آکر آپ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا کہ آج کی رات مجھ پرایک سورت اتری ہے جو مجھے سب دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند ہے، پھر حضور نے إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا پڑھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment