کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
دودھ پلانے والی ماں کا بیان۔
حدیث نمبر
4742
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْکِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِکِ فَقُلْتُ نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَکَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِکِ لَا يَحِلُّ لِي قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِيدُ أَنْ تَنْکِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَکُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِکُنَّ وَلَا أَخَوَاتِکُنَّ قَالَ عُرْوَةُ وثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ کَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ
حکم بن نافع، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، زینب بنت ابی سلمہ، ام حبیبہ بنت ابوسفیان کہتی ہیں کہ میں نے کہایارسول ﷲ آپ میری بہن بنت ابوسفیان سے نکاح کرلیجئے، ارشاد فرمایا، تجھے سوکن ناگوار معلوم نہ ہوگی، میں نے عرض کیا اب بھی میں ہی آپ کی اکیلی بیوی نہیں ہوں، بلکہ میں تو اپنی بہن کوبھلائیوں میں اپنا شریک کرناچاہتی ہوں، اس پر آپ نے فرمایا میرے لئے یہ جائز نہیں کہ دو بہنوں کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں رکھوں، اس پرمیں نے عرض کیا ہم نے سناہے آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا ابوسلمہ کی بیٹی سے؟ میں نے کہاہاں! آپ نے فرمایا اگر پہلے خاوند سے بیوی کی بیٹی وہ نہ ہوتی تب بھی میرے لئے حلال نہ تھی، کیوں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کوثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، میرے سامنے تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کوپیش نہ کرو، کیوں کہ وہ میرے لئے حلال نہیں، عروہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی، جسے ابولہب نے آزاد کردیا، پھراس نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابولہب مرگیا تو کسی گھر والے نے اس کوخواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تجھ سے کیامعاملہ کیا گیا، جواب دیا جب سے تم سے جدا ہواہوں سخت عذاب میں مبتلاہوں، ثوبیہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑاساپانی مل جاتا ہے، جس سے میری پیاس بجھ جاتی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment