کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
مردوں کا عورتوں کو اور عورتوں کا مردوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ کُنَّا نَفْرَحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ کَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تُرْسِلُ إِلَی بُضَاعَةَ قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ نَخْلٍ بِالْمَدِينَةِ فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ وَتُکَرْکِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا وَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا فَنَفْرَحُ مِنْ أَجْلِهِ وَمَا کُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّی إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ
عبد ﷲ بن مسلمہ ابن ابی حازم ابوحازم سہل سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو جمعہ کے دن بہت خوشی ہوتی تھی میں نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا کہ بڑھیا تھی جو بضاعہ کے پاس ہمیں بٹھاتی تھی ابن مسلمہ نے کہا بضاعہ کے پاس ہمیں بٹھاتی تھی ابن مسلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ میں کھجوروں کا ایک باغ ہے وہ بڑھیا چقندر کی جڑیں اکھاڑ کر ایک ہانڈی میں ڈالتی اور اس میں جو کے چند دانے ڈال کر پکاتی جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے اور اس کے پاس جاتے تو اس کو سلام کرتے وہ ہمارے سامنے وہی (کھانا) پیش کرتی اس لئے ہم بہت خوش ہوتے اور ہم جمعہ کی نماز کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment