کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
چغل خوری گناہ کبیرہ ہے
حدیث نمبر
5644
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا عَبِيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِيرٍ وَإِنَّهُ لَکَبِيرٌ کَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ الْبَوْلِ وَکَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَکَسَرَهَا بِکِسْرَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ فَجَعَلَ کِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا وَکِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا
ابن سلام، عبیدہ بن حمید، ابوعبدالرحمن، منصور، مجاہد، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ کے ایک باغ سے باہر تشریف لائے تو آدمیوں کی آواز سنی جو اپنی قبروں میں عذاب دیئے جارہے تھے، آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کو بظاہر کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں ہورہا، اگرچہ حقیقت میں وہ بہت گناہ گار ہیں، ان میں سے ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلخوری کرتا تھا، پھر ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دوٹکڑے کئے، ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑدیا اور فرمایا کہ امید ہے کہ دونوں کے عذا ب میں تخفیف کی جائے گی، جب تک کہ وہ خشک نہ ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment