Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1196,TotalNo:5847


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
معانقہ کا بیان اور کسی شخص کا یہ پوچھنا کہ صبح طبیعت کیسی رہی۔
حدیث نمبر
5847
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ کَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْعَبَّاسُ فَقَالَ أَلَا تَرَاهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ الثَّلَاثِ عَبْدُ الْعَصَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّی فِي وَجَعِهِ وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ فَاذْهَبْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْأَلَهُ فِيمَنْ يَکُونُ الْأَمْرُ فَإِنْ کَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِکَ وَإِنْ کَانَ فِي غَيْرِنَا أَمَرْنَاهُ فَأَوْصَی بِنَا قَالَ عَلِيٌّ وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْنَعُنَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا وَإِنِّي لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا
اسحاق، بشر بن شعیب، شعیب، زہری، عبد ﷲ بن کعب، عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں- انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی بن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ابی طالب، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے (دوسری سند) احمد بن صالح، عنبسہ، یونس ابن شہاب، عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے نبیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے مرض الموت میں جا کر واپس ہوئے تو لوگوں نے پوچھا، اے ابوا لحسن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت صبح کو کیسی رہی انہوں نے کہا کہ الحمد ﷲ اچھے ہیں (حضرت) عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا کیا تم نہیں دیکھتے خدا کی قسم تین دن کے بعد تم ڈنڈے کے غلام(تابع) ہو جاؤ گے میرا خیال ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس مرض میں وفات پا اجیں گے میں بنی عبدالمطلب کے چہرے میں اسن کی موت کے آثار پہچان لیتا ہوں اس لئے میرے ساتھ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں کہ خلاف کس خاندان میں ہوگی، اگر ہمارے خاندان میں رہے گی تو ہمیں یہ معلوم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوگی تو ہم کہیں گے کہ ہمارے لیے وصیت کیجئے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم اگر ہم نے آپ سے پوچھا اور آپ نے منع کردیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہ دیں گے میں اس کے متعلق رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی سوال نہ کروں گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment