Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1257,TotalNo:5908


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
نماز کے بعد دعا پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5908
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا وَرْقَائُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ قَالَ کَيْفَ ذَاکَ قَالُوا صَلَّوْا کَمَا صَلَّيْنَا وَجَاهَدُوا کَمَا جَاهَدْنَا وَأَنْفَقُوا مِنْ فُضُولِ أَمْوَالِهِمْ وَلَيْسَتْ لَنَا أَمْوَالٌ قَالَ أَفَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَمْرٍ تُدْرِکُونَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ جَائَ بَعْدَکُمْ وَلَا يَأْتِي أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ بِهِ إِلَّا مَنْ جَائَ بِمِثْلِهِ تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُکَبِّرُونَ عَشْرًا تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سُمَيٍّ وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ سُمَيٍّ وَرَجَائِ بْنِ حَيْوَةَ وَرَوَاهُ جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ وَرَوَاهُ سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق، یزید، ورقائ، سمی، ابوصالح، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ دولتمند لوگ تو درجات اور نعمتوں میں بڑھ گئے، آپ نے فرمایا کیونکر، انہوں نے کہا کہ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، اور جہاد کرتے ہیں، اور اپنا بچا ہوا مال بھی خرچ کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس مال نہیں، آپ نے فرمایا کیا مین تم کو ایسی چیز بتلادوں جس کے ذریعہ تم ان کے برابر ہو جاؤ، جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور ان سے بڑھ جاؤ، جو تمہارے بعد آئیں، اور کوئی شخص تمہارے بعد آئیں، اور کوئی شخص تمہارے برابر نہیں ہوگا، مگر وہ جس اس کو پڑھ لے، ہر نماز کے بعد دس بار ﴿سبحان ﷲ﴾ اور دس بار ﴿ ﷲ اکبر﴾ کہو، عبیدہ ﷲ بن عمر نے سمی سے اور ابن عجلان نے سمی اور رجاء بن حیوہ سے اس کی متابعت میں روایت کی، اور جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے، ابہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوالدراء سے روایت کی، اور اس کو سہیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment