Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1185,TotalNo:5836


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
اس مجلس کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک مل جل کر بیٹھے ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر
5836
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِکَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَکِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَائَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَلِکَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّی مَرَّ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِکِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَفِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَی اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْئُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَائَکَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّی هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَکِبَ دَابَّتَهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاکَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاکَ وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَی أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاکَ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابراہیم بن موسیٰ ہشام معمر زہری عروہ بن زبیر اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اس کی زین کے نیچے فدک کی چادر تھی اور اپنے پیچھے اسامہ بن زید کو بٹھایا اس وقت بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ کی عیادت کو آپ جا رہے تھے اور یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے یہاں تک کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان بت پرست مشرکین اور یہود بیٹھے ہوئے تھے اور ان میں عبد ﷲ بن ابی بن سلول بھی تھا اور عبد ﷲ بن رواحہ بھی اس مجلس میں تھے جب سواری کی گردان لوگوں پر پڑھی تو عبد ﷲ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر رکھ لی پھر کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا پھر رک کر سواری سے اتر پڑے اور ان کو ﷲ کی طرف بلایا اور قرآن پڑھ کر سنایا عبد ﷲ بن ابی بن سلول نے کہا کہ اے شخص مجھے یہ اچھا معلوم نہیں ہوتا جو تو کہتا ہے وہ اگر صحیح بھی ہے تو ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کر اپنے ٹھکانے پر جا ہم میں سے جو شخص تیرے پاس جائے اس سے بیان کر ابن رواحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا (یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہماری مجلسوں میں آیا کیجئے ہم اس کو پسند کر تے ہیں پس مسلمانوں اور مشرکوں اور یہود نے ایک دوسرے کو بر بھلا کہنا شروع کیا یہاں تک کہ قصد کیا کہ ایک دوسرے پر حملہ کریں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو خاموش کراتے رہے پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے یہاں تک کہ سعد بن عبادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور فرمایا اے سعد! ابوحباب یعنی عبد ﷲ بن ابی نے جو کہا کیا تم نے نہیں سنا اس نے ایسی ایسی بات کہی سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کو معاف کردیجئے اور اس سے درگزر فرمائیے قسم ہے ﷲ کی کہ ﷲ نے آپ کو وہ چیز دی جو دینی تھی- اس شہر کے لوگوں نے اس کا مشورہ کرلیا تھا کہ اس کے سر پر تاج رکھ دیں اور (سرداری) کی پگڑی باندھ دین جب کہ ﷲ تعالیٰ نے (اس منصوبہ) کو اس حق کے ذریعے رد کردیا جو ﷲ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے تو وہ اس سبب سے چمک گیا (یعنی جل گیا) اور یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ حرکت کی جو آپ نے ملاحظہ فرمائی تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معاف کردیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment