کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
نماز کے بعد دعا پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5910
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَيَا عَامِرُ لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ يُذَکِّرُ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَکَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَکِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ فَلَمَّا صَافَّ الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ فَأُصِيبَ عَامِرٌ بِقَائِمَةِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا کَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ قَالُوا عَلَی حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ فَقَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَکَسِّرُوهَا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاکَ
مسدد، یحیی، یزید بن ابی عبید سلمہ کے مولی سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو جماعت میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے عامر کاش تم اپنے اشعار سناتے وہ سواری سے اتر پڑے، اور حدی پڑھنے لگے، کہ خدا کی قسم اگر ﷲ (ہدایت کرنے والا) نہ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے،، اور اس کے علاوہ چند اشعار پڑھے، لیکن مجھے یاد نہیں رہے رسول ﷲ نے فرمایا کہ یہ کون ہانکنے والا ہے؟ لوگوں نے کہا عامر بن اکوع۔ آپ نے فرمایا کہ ﷲ اس پر رحم کرے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول ﷲ کاش اس عامر سے آپ ہمیں اور فائدہ پہنچاتے (یعنی ابھی یہ اور زندہ رہتے) جب لوگ صف بستہ ہوئے اور جنگ کرنے لگے تو عامر کو اپنی ہی تلوار سے زخم لگ گیا جس کے صدمہ سے وفات پاگئے۔ جب شام ہوئی تو لوگوں نے بہت سی آگ جلائی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آگ کیسی ہے؟ کس چیز پر تم نے آگ جلائی ہے؟ لوگوں نے کہا گھریلو گدھوں کے گوشت پر۔ آپ نے فرمایا کہ اس چیز کو پھینک دو جواس میں ہے اور برتن کو توڑ ڈالو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول ﷲ کیا ہم اس گوشت کو پھینک دیں اور برتن کو دھو ڈالیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی کرو۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment