کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مہمان کے حق کا بیان
حدیث نمبر
5718
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَلَا تَفْعَلْ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّکَ عَسَی أَنْ يَطُولَ بِکَ عُمُرٌ وَإِنَّ مِنْ حَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ بِکُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِکَ الدَّهْرُ کُلُّهُ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِکَ قَالَ فَصُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قُلْتُ أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِکَ قَالَ فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ يُقَالُ هُوَ زَوْرٌ وَهَؤُلَائِ زَوْرٌ وَضَيْفٌ وَمَعْنَاهُ أَضْيَافُهُ وَزُوَّارُهُ لِأَنَّهَا مَصْدَرٌ مِثْلُ قَوْمٍ رِضًا وَعَدْلٍ يُقَالُ مَائٌ غَوْرٌ وَبِئْرٌ غَوْرٌ وَمَائَانِ غَوْرٌ وَمِيَاهٌ غَوْرٌ وَيُقَالُ الْغَوْرُ الْغَائِرُ لَا تَنَالُهُ الدِّلَائُ کُلَّ شَيْئٍ غُرْتَ فِيهِ فَهُوَ مَغَارَةٌ تَزَّاوَرُ تَمِيلُ مِنْ الزَّوَرِ وَالْأَزْوَرُ الْأَمْيَلُ
اسحاق بن منصور روح بن عبادہ حسین یحییٰ بن ابی کثیر ابوسلمہ بن عبدالرحمن عبد ﷲ بن عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ میرے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا مجھے خبر نہیں دی گئی تورات عبادت کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے میں نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو رات کو نماز پڑھ اور سو جا اور روزہ رکھ اور افطار کر اس لئے کہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے اور امید ہے کہ تمہاری عمر طویل ہو اس لئے تمہارے واسطے کافی ہے کہ ہر مہینے تین روزے رکھوکیونکہ ہر نیکی کے بدلے دس گنا ملتا ہے اس طرح تمام دنوں کے روزے ہو جائیں گے- عبد ﷲ بن عمر کا بیان ہے کہ میں نے زیادتی چاہی تو آپ نے بھی اس پرزیادہ کیا میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا ہر جمعہ سے تین روزے رکھ لیا کرو- ابن عمر کا بیان ہے کہ میں نے اس پر بھی زیادتی چاہی تو آپ نے اس پر زیادہ کردیا میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا ﷲ کے نبی داؤد علیہ السلم کا روزہ رکھومیں نے عرض کیا ﷲ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا ہے؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نصف مہینہ کے روزے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment