کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
اجازت مانگنا نظر پڑ جانے کی وجہ سے (ضروری) ہے۔
حدیث نمبر
5823
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَفِظْتُهُ کَمَا أَنَّکَ هَا هُنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًی يَحُکُّ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِکَ إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
علی بن عبد ﷲ سفیان زہری سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے حجروں میں سے ایک حجرے میں جھانک کردیکھا اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سر کھجلانے کا آلہ تھا جس سے آپ اپنا سر کھجلا رہے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر میں جانتا کہ تو جھانک کردیکھے گا تو میں اس سے تیری آنکھ میں ماراتا اجازت لینی دیکھنے ہی کی وجہ سے مقرر کی گئی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment