Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1190,TotalNo:5841


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
اس خط کے دیکھنے کا بیان، جس میں مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی بات لکھی ہو۔
حدیث نمبر
5841
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَکُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنْ الْمُشْرِکِينَ مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی الْمُشْرِکِينَ قَالَ فَأَدْرَکْنَاهَا تَسِيرُ عَلَی جَمَلٍ لَهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا أَيْنَ الْکِتَابُ الَّذِي مَعَکِ قَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَأَنَخْنَا بِهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا قَالَ صَاحِبَايَ مَا نَرَی کِتَابًا قَالَ قُلْتُ لَقَدْ عَلِمْتُ مَا کَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّکِ قَالَ فَلَمَّا رَأَتْ الْجِدَّ مِنِّي أَهْوَتْ بِيَدِهَا إِلَی حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِکِسَائٍ فَأَخْرَجَتْ الْکِتَابَ قَالَ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ يَا حَاطِبُ عَلَی مَا صَنَعْتَ قَالَ مَا بِي إِلَّا أَنْ أَکُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَا غَيَّرْتُ وَلَا بَدَّلْتُ أَرَدْتُ أَنْ تَکُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِکَ هُنَاکَ إِلَّا وَلَهُ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالَ صَدَقَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ قَالَ فَقَالَ يَا عُمَرُ وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَی أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَکُمْ الْجَنَّةُ قَالَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ وَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
یوسف بن بہلول ابن ادریس حصین بن عبدالرحمن سعد بن سعید ابوعبدالرحمن سلمی حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھ کو اور زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ روضہ خاخ میں جاؤ وہاں ایک مشرک عورت ہے اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا خط ہے جو مشرکین کے نام ہے (اسے لے آؤ) حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم میں سے ہر شخص سوار تھا اس لیے اس کو وہاں پا لیا جہاں پر رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا وہ اونٹ پر سوار تھی ہم نے کہا وہ تحریر جو تیرے پاس ہے وہ کہاں ہے، اس نے کہا، میر پاس تو کوئی خط نہیں، ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے پالان وغیرہ کی تلاشی لی لیکن وہ خط نہیں ملا، پھر میں نے کہا میں جانتا ہوں کہ رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ نہیں فرمایا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، خط نکال ورنہ تجھے ننگا کردوں گا جب اس ہماری سختی دیکھی، تو اس چادر میں سے جس کا تہ بنمد بنا رکھا تھا خط نکال کردے دیا، وہ خط ہم لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئے، آپ نے فرمایا اے حاطب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تو نے ایسا کیوں کیاحاطب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ﷲ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، میں بدلا نہیں ہوں (یعنی مرتد نہیں ہوگیا ہوں) بلکہ اس لئے (خط لکھا) کہ مکہ میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں جو میرے اہل و عیال کی نگرانی کرے میں چاہا کہ ان کو ہمدرد بناؤں تاکہ وہ میرے اہل و عیال کی نگرانی کریں اور دوسرے صحابہ کے تو وہاں رشتہ دار موجود ہیں، جو ان کے اہل و عیال کی نگرانی کرتے ہیں آپ نے فرمایا ٹھیک کہا، اب اسے کچھ نہ کہو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس ﷲ اور اس کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے آپ اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں آپ نے فرمایا کہ اے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تجھے معلوم ہے کہ ﷲ اہل بدر کے متعلق اطلاع دے دی ہے کہ جو چاہو کرو تمہارے لئے جنت واجب ہو گئی، راوی کا بیان ہے کہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور عرض کیا، ﷲ اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment