کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
مسجد میں قیلولہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5863
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ مَا کَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ وَإِنْ کَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّکِ فَقَالَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْئٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ قُمْ أَبَا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ مرتين
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز بن ابی حازم، ابوحازم، سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہ تھا، اور جب اس نام سے وہ پکارے جاتے تو بہت خوش ہوتے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تشریف لائے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو گھر میں نہ پایا تو پوچھا کہ تمہارا چچا زاد بھائی کہاں ہے؟ حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ہو گئی ہے، اس لئے وہ ناراض ہوکر باہر چلے گئے اور ہمارے پاس نہیں لیٹے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کسی آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہے؟ اس شخص نے واپس آکر کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ مسجد میں لیٹے ہیں، رسول ﷲ صلی ﷲ نے کسی آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہے؟ اس شخص نے واپس آکر کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ مسجد میں لیٹے ہیں، اس شخص نے واپس آکر کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ مسجد میں لیٹے ہیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ لیٹے ہوئے تھے، اور چادر ان کے پہلو سے سرک گئی تھی اس لئے مٹی ان کے جسم سے لگ گئی تھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مٹی ان کے جسم سے پونجھنے جاتے اور فرماتے کہ اٹھ اے ابوتراب! اٹھ اے ابوتراب-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment