کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وضو کا بیان
باب
طشت سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر
197
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ عَمِّي يُکْثِرُ مِنْ الْوُضُوئِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِي کَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَائٍ فَکَفَأَ عَلَی يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مِرَاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهِمَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَائً فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَدْبَرَ بِيَدَيْْهِ وَأَقْبَلَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ هَکَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
خالد بن مخلد، سلیمان، عمر وبن یحییٰ ان کے والد یحییٰ روایت کرتے ہیں کہ میرے چچا بہت (کثرت کے ساتھ) وضو کیا کرتے تھے، انہوں نے ایک دن عبدﷲ بن زید سے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم نے رسول ﷲ کو کس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے ایک طشت پانی کا منگوایا اور اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر جھکایا اور ان دونوں کو تین مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور ہر مرتبہ ایک ہی ایک چلو سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی لیا، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور چلو بھر کر نکالا، تین مرتبہ اپنا منہ دھویا پھردو دو مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا، یعنی دونوں ہاتھ پیچھے لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا کہ اسی طرح میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے-
No comments:
Post a Comment