کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کیاجائے۔
حدیث نمبر
4696
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَنْکَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَکَانَ يَتَعَاهَدُ کَنَّتَهُ فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَتَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ فَلَمَّا طَالَ ذَلِکَ عَلَيْهِ ذَکَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقَنِي بِهِ فَلَقِيتُهُ بَعْدُ فَقَالَ کَيْفَ تَصُومُ قَالَ کُلَّ يَوْمٍ قَالَ وَکَيْفَ تَخْتِمُ قَالَ کُلَّ لَيْلَةٍ قَالَ صُمْ فِي کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةً وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ قُلْتُ أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ وَاقْرَأْ فِي کُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاکَ أَنِّي کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ فَکَانَ يَقْرَأُ عَلَی بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنْ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنْ النَّهَارِ لِيَکُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّی أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَی وَصَامَ مِثْلَهُنَّ کَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُکَ شَيْئًا فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي ثَلَاثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَکْثَرُهُمْ عَلَی سَبْعٍ
موسی، ابوعوانہ، مغیرہ، مجاہد، عبد ﷲ بن عمرو بن عاص رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ایک اچھے خاندان والی عورت سے میرانکاح کردیا تھا، اور میرے والد اپنی بہوسے (اکثراوقات) میرا حال پوچھتے رہتے تھے، وہ جواب دیتی کہ وہ ایک اچھا نیک آدمی ہے، مگر جب سے میں آئی ہوں، میرے بچھونے پر قدم بھی نہ رکھا اور نہ میرے قریب آئے، جب ایک عرصہ گذرگیا تو میرے والد نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے یہ قصہ بیان کیا، آپ نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، چناچہ میں آپ کے پاس بھیجا گیا، آپ نے پوچھا تم روزے کس طرح رکھتے ہو، میں نے کہامسلسل، پھر فرمایا قرآن کس طرح ختم کرتے ہو، میں کہا ہر رات، تو آپ نے فرمایا ہرمہینے میں تین روزے رکھا کرو، اور ایک ماہ میں قرآن مجید ختم کیا کرو، میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ نے فرمایا ایک ہفتہ میں تین روزے رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، ہمیشہ دودن افطار کیا کرواور ایک دن روزہ رکھا کرو، عرض کیا مجھ میں اس بھی زیادہ طاقت ہے، فرمایا اچھا داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھا کروجوسب سے افضل ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطارکرو، اور قرآن سات روز میں ختم کیا کرو (عبد ﷲ کہتے ہیں) کاش میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی رخصت منظور کرلتا کیوں کہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہوگیا ہوں اور مجھ میں ویسی طاقت نہیں رہی، بڑھاپے میں اپنے کسی گھر والے کو دن میں ساتواں حصہ قرآن سنادیا کرتے تھے تاکہ اس کا پڑھنا رات میں آسان ہوجائے اور جب بہت کمزور ہوجاتے اور طاقت حاصل کرناچاہتے تو کئی روز تک روزہ نہ رکھتے، پھر شمار کرکے اتنے روزے رکھ لیتے کہ کہیں کوئی باقی نہ رہ جائے، جس کارسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے میں نے عہد کیا تھا (امام بخاری) کہتے ہیں کہ بعض حضرات نے تین راتوں اور پانچ راتوں میں ختم قرآن بیان کیا ہے، اور زیادہ روایتیں سات راتوں کی ہی پائی جاتی ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment