کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4925
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ نِدَائُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ أَذَانُهُ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ کَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوْ الْفَجْرَ وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنْ الْأُخْرَی وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ کَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَی تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ شَيْئًا إِلَّا مَادَّتْ عَلَی جِلْدِهِ حَتَّی تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَا يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلَّا لَزِمَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا فَهُوَ يُوسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَی حَلْقِهِ
عبد ﷲ بن مسلمہ، یزید بن زریع، سلیمان تیمی، ابوعثمان، عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی آذان تم میں سے کسی کو سحری کھانے سے نہ روکے، اس لئے کہ وہ آذان دیتا ہے یا پکارتا ہے تاکہ تم میں شب بیداری کرنے والا فارغ ہوجائے (اور آرام کرلے) یہ مقصد نہیں ہوتا کہ صبح ہوگئی (اور یزید بن زریع) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کر کے اور دونوں طرف پھیلا کر بتایا کہ صبح صادق کی روشنی اس طرح ہوتی ہے، اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بواسطہ عبدالرحمن بن ہرمز، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ بیان کیا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سخی اور کنجوس کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جو لوہے کی دو زرہ اس طرح پہنے ہوئے ہوں کہ چھاتیوں سے ہنسلی تک ہوں، سخی جب خرچ کرتا ہے تو اس کی زرہ ڈھیلی اور دراز ہوجاتی ہے اور اس حد تک کشادہ ہوجاتی ہے کہ انگلیوں کے پورے چھپ جاتے ہیں، لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پرچپکا رہتا ہے وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے، لیکن کشادہ نہیں ہوتا اور اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشاہ کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment