کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
عورت کو نیک آدمی سے اپنے نکاح کی درخواست کرنے کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
4758
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ امْرَأَةً عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا فَقَالَ مَا عِنْدَکَ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْئٌ قَالَ اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَکِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَائٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِکَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْئٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْکَ مِنْهُ شَيْئٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّی إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ أَوْ دُعِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ فَقَالَ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَکْنَاکَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ
سعید بن ابی مریم، ابوغسان، ابوحازم، سہل کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا، ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول ﷲ!اس کا مجھ سے نکا ح کرا دیجئے، آپ نے پوچھا تیرے پاس کیاچیز ہے؟ وہ بولا میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا جا کر ڈھونڈو، اگرچہ لوہے کہ انگوٹھی ہو، وہ گیا اور دوبارہ آکر کہنے لگا یا رسول ﷲ! ﷲ کی قسم مجھے کچھ نہیں ملا، نہ لوہے کی انگوٹھی ہی ملی، البتہ میرا تہہ بند ہے، آدھا اس کودے دیجئے، سہل کہتے ہیں کہ اس کے پاس دوسری چادر نہ تھی، آپ نے جواب دیا تیری چادرکو کیا کریں، اگر تو اوڑھ لے تو وہ ننگی اور اگروہ اوڑھ لے تو تو ننگا، وہ بے چارہ (مایوس ہو کر) بیٹھا گیا، بہت دیر تک بیٹھ کر جانے لگا، آپ نے اسے (جاتے) ہوئے دیکھ کر بلایا، یا کسی سے بلوایا، اور فرمایا تجھے قرآن کی کون کون سی سورتیں یاد ہیں، اس نے چند سورتوں کانام لے کرکہافلاں فلاں سورت یاد ہے، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے قرآن شریف کی فضیلت کے وجہ سے اس عورت کامالک بنادیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment