کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اگرمیں بغیر گواہ کے سنگسار کرتا
حدیث نمبر
4936
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ذُکِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِکَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْکُو إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِي ادَّعَی عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ کَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَجَائَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَکَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ فَقَالَ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ کَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوئَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ آدَمَ خَدِلًا
سعیدبن عفیر ولیث، یحیی بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس لعان کا تذکرہ ہورہا تھا، عاصم بن عدی نے اسکے متعلق کچھ بڑی بات کہی پھرواپس چلا آیا اسکے پاس اسکی قوم کا ایک آدمی آیا اور شکایت کی کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ہے تو عاصم نے کہا بڑابول سامنے آیا اور اسکو لیکر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس مرد کے متعلق آپ سے بیان کیا جس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تھا، وہ (دعوی) کرنے والامرد زردرنگ، کم گوشت والا (دبلا) اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے متعلق دعوی کیا تھا کہ اسکو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے گندم گوں اور فربہ پنڈلیوں والا تھا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یا ﷲ! اصل حقیقت آشکارکردے، وہ عورت اس مرد کے مشابہ بچہ جنے جس کے متعلق دعوی کیا تھا کہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھاہے- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا- ایک شخص نے ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے پوچھا کیا یہ عورت وہی تھی جسکے متعلق آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگرمیں کسی کو بغیر گواہ کے سنگسارکرتا تو یہی ہے، ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے جواب دیا نہیں وہ دوسری عورت تھی جوعلانیہ اسلام میں برائی کرتی تھی- ابوصالح اور عبد ﷲ بن یوسف نے "خدلا" کالفظ روایت کیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment