صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
صاف کی ہوئی اور بغیر صاف کی ہوئی کھال کے جوتوں کا بیان
حدیث نمبر
5448
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَأَيْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْکَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّی کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْکَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
عبد ﷲ بن مسلمہ، مالک، سعیدمقبری، عبید بن جریج کہتے ہیں کہ عبیدﷲ بن جریج نے عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے پوچھا کہ میں آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھتا ہوں کہ جوآپ کے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ اے ابن جریج وہ کیاہیں، ابن جریج نے کہا کہ آپ وہ رکن یمانی کے سوا خانہ کعبہ کے دوسرے رکنوں کو طواف کے وقت بوسہ نہیں دیتے، بالوں سے صاف کی ہوئی کھال کی جوتیاں پہنتے ہیں، اور کپڑے کو زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور جب آپ مکہ میں تھے، لوگوں نے چاند دیکھ کر احرام باندھ لیا، لیکن جب کہ آپ نے یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ کو احرام باندھا، عبد ﷲ بن عمر نے جواب دیا کہ ارکان کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور فعال سبتیہ کے متعلق یہ جواب ہے کہ آپ کو میں نے ایسی جوتیاں پہنتے ہوئے دیکھاہے، جس میں بال نہیں ہوتے تھے، اور وضو کرکے اس میں پیر رکھتے تھے، اس لئے میں اس کا پہننا پسند کرتاہوں، اور زرد رنگ کے متعلق یہ ہے کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اسی رنگ میں رنگتے ہوئے دیکھا اس لئے میں اسی رنگ میں رنگنے کو پسند کرتا ہوں، رہا احرام باندھنا تو میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک کہ سواری چل نہ پڑتی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment