صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
نئے کپڑے پہننے کےوقت کون سی دعا پڑھنی چاہییے
حدیث نمبر
5442
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَائُ قَالَ مَنْ تَرَوْنَ نَکْسُوهَا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ فَأُسْکِتَ الْقَوْمُ قَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْبَسَنِيهَا بِيَدِهِ وَقَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَی عَلَمِ الْخَمِيصَةِ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَيَّ وَيَقُولُ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا وَيَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا وَالسَّنَا بِلِسَانِ الْحَبَشِيَّةِ الْحَسَنُ قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي أَنَّهَا رَأَتْهُ عَلَی أُمِّ خَالِدٍ
ابوالولید، اسحاق بن سعیدبن عمروبن سعید بن العاص، سعید بن عمرو بن سعید بن عمروبن سعید بن عاص، ام خالد بنت خالد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کالی چادرلائی گئی تو آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے میں کس کو یہ چادر پہناؤں؟ لوگ خاموش رہے آپ نے فرمایا کہ ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔ وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی گئیں آپ نے اپنے ہاتھ سے ان کو پہنایا اور دو بار فرمایا کہ یہ کپڑا تیرے جسم پر پرانا ہو پھٹ جائے پھر اس کے نقش ونگار کی طرف دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ اے ام خالد ھذا سنا، سنا حبشی زبان میں بہتر چیز کو کہتے ہیں۔ اسحاق نے کہا کہ مجھ سے میرے گھر والوں کی ایک عورت نے بیان کیا کہ میں نے اسے ام خالد (کے جسم) پر دیکھا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment