Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:744,TotalNo:5395

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
قمیص وغیرہ میں سینے کے نزدیک جیب کے ہونے کا بیان
حدیث نمبر
5395
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَی ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّی تَغْشَی أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ کُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ بِمَکَانِهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ هَکَذَا فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ تَابَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ فِي الْجُبَّتَيْنِ وَقَالَ حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ طَاوُسًا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ جُبَّتَانِ وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ جُبَّتَانِ
عبد ﷲ بن محمد، ابوعامر، ابراہیم بن نافع، حسن، طاوس، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے بخیل اور خیرات کرنے والے کی ایک مثال بیان کی ہے کہ وہ ان دو آدمیوں کی طرح ہیں جو لوہے کی دو زرہیں پہنے ہوئے ہیں ان کے دونوں ہاتھ سینوں اور ہنسلیوں تک پہنچے ہوئے ہیں صدقہ کرنے والا جب بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو وہ زرہ چوڑی اور ڈھیلی ہوجائے گی یہاں تک کہ پاؤں کے پاس آجائے گی اور پیر کی انگلیوں کو ڈھک لے گی اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس کی زرہ اس پر تنگ ہوتی جائے گی اور ہرحلقہ اپنی جگہ پر جکڑے ہوئے ہوگا حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول ﷲ کو اپنی انگلیان اپنی جیب میں ڈال کر بتاتے ہوئے دیکھا کہ وہ اس کو کشادہ کرناچاہتا ہے لیکن کشادہ نہیں ہوتا ہے اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاوس سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے جبتان کالفظ سنا ہے اور جعفر نے اعرج سے جبتان کا لفظ روایت کیا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment