Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:727,TotalNo:5378

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طب کا بیان
باب
گدھی کے دودھ کا بیان
حدیث نمبر
5378
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْهُ حَتَّی أَتَيْتُ الشَّأْمَ وَزَادَ اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ وَسَأَلْتُهُ هَلْ نَتَوَضَّأُ أَوْ نَشْرَبُ أَلْبَانَ الْأُتُنِ أَوْ مَرَارَةَ السَّبُعِ أَوْ أَبْوَالَ الْإِبِلِ قَالَ قَدْ کَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَدَاوَوْنَ بِهَا فَلَا يَرَوْنَ بِذَلِکَ بَأْسًا فَأَمَّا أَلْبَانُ الْأُتُنِ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُحُومِهَا وَلَمْ يَبْلُغْنَا عَنْ أَلْبَانِهَا أَمْرٌ وَلَا نَهْيٌ وَأَمَّا مَرَارَةُ السَّبُعِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُاعِ
عبد ﷲ بن محمد، سفیان، زہری، ابوادریس خولانی، ابوثعلبہ خشنی رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہرکچلیوں والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا، زہری نے کہا کہ میں نے اسکو نہیں سنا یہاں تک کہ میں شام میں آیا اور لیث نے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، کہ میں نے ان سے پوچھا کہ ہم گدھی کا دودھ پی سکتے ہیں یا اس سے وضو کر سکتے ہیں یادرندوں کے پتے یا اونٹوں کا دودھ استعمال کر سکتے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ پہلے مسلمان اس سے علاج کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن گدھی کے دودھ کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کے گوشت کے کھانے سے تو منع فرمایا ہے مگر اس کے دودھ کے متعلق کوئی حکم یاممانعت مجھے نہیں پہنچی، اور درندوں کے پتے کے متعلق ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندوں کے کھانے سے منع فرمایا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment