صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
منہ اور سر کو چادر سے ڈھکنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5404
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ هَاجَرَ نَاسٌ إِلَی الْحَبَشَةِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُهَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ کَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَکْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَکُنْ يَأْتِينَا فِيهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِدًا لَکَ أَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ إِنْ جَائَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَکْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ قَالَ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُکَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَی رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْکَأَتْ بِهِ الْجِرَابَ وَلِذَلِکَ کَانَتْ تُسَمَّی ذَاتَ النِّطَاقِ ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ فَمَکُثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ لَقِنٌ ثَقِفٌ فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَکَّةَ کَبَائِتٍ فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُکَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّی يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَيَرْعَی عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنْ الْعِشَائِ فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهِمَا حَتَّی يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ يَفْعَلُ ذَلِکَ کُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْکَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ
ابراہیم بن موسی، ہشام، معمر، زہری، عروہ، عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ابوبکر نے بھی ہجرت کا سامان کیا، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ٹھہر جاؤ اس لئے کہ امیدہے مجھے بھی ہجرت کا حکم دیا جائے گا، حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، کیا آپ کو اس کی امید ہے؟ آپ نے فرمایاہاں! حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپ کے ساتھ رہنے کی غرض سے رک گئے اور اپنی دوسواریوں کو چار ماہ تک سمر کی پیتاں کھلاتے رہے، عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہانے کہا کہ ایک دن ہم لوگ اپنے گھر میں ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ کسی کہنے والے نے ابوبکر سے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، اس حال میں کہ چہرے کو ڈھکے ہوئے ہیں، اور ایسے وقت تشریف لائے ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس نہیں آتے تھے (اس لئے) ابوبکر نے عرض کیامیرے ماں باپ آپ پر فداہوں، بخدا آپ اس وقت کسی بڑے کام کی وجہ سے تشریف لائے ہیں، چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت مانگی، اجازت ملی تو تشریف لائے، جب اندر داخل ہوئے تو ابوبکر سے فرمایا تمہارے پاس جتنے لوگ ہیں ان کو ہٹادو، ابوبکر نے عرض کیایارسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میرے باپ آپ پر فداہوں، یہ تو صرف آپ کے گھر کے لوگ ہیں، آپ نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کا حکم دیاگیا، ابوبکر نے عرض کیا یا رسول ﷲ میرے ماں باپ آپ پر فداہوں، کیا میں بھی ساتھ رہوں گا؟ آپ نے فرمایاہاں! ابوبکر نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ دو سواریوں میں سے ایک لے لیں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت کے عوض (لوں گا) ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ ہم نے ان دونوں کے لئے سامان سفرتیار کیا اور ناشتہ تیار کرکے چمڑے کی تھیلی میں رکھ دیا، اسماء بنت ابی بکر نے اپنا ڈوپٹہ پھاڑا اور اس سے تھیلی کامنہ باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کو ذات النطاق کہاجاتا ہے، پھر جبل ثور کے غار میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر چلے گئے، وہاں تین رات رہے، عبد ﷲ بن ابی بکر جوذہین اور نوعمر لڑکا تھا، ان دونوں کے پاس رات گذارتا تھا اور صبح ہوتے ہی وہاں سے روانہ ہو جاتا اور صبح کے وقت قریش میں اسی طرح ہوتا، گویا کہ اس نے رات بھی انہی کے ساتھ گذاری ہے، کسی سے کوئی بات سنتے تو یاد رکھتے اور جب رات آتی تو دونوں کے پاس آکر بتا دیتے، جب ایک گھڑی رات گذر جاتی تو عامر بن فہیرہ ابوبکر رضی ﷲ عنہ کاغلام اپنی بکریاں لے جاتا اور چراتا، دونوں وہیں رات گذارتے یہاں تک کہ عامر بن فہیرہ تاریکی میں وہاں سے روانہ ہوجاتا، تین رات تک یہ ایسا کرتے رہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment