Sunday, October 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:231

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وضو کا بیان
باب
اونٹ، چوپایوں اور بکری کے پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہوں کا بیان۔
حدیث نمبر
231
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍعَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُکْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ فَجَائَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيئَ بِهِمْ فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَهَؤُلَائِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ عکل یا  عرینہ  کچھ لوگ کے آئے، مگر وہ مدینہ میں بیمار ہوگئے، تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں لے جانے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور ان کا دودھ پئیں، چناچہ وہ (جنگل میں) چلے گئے اور ایسا ہی کیا، جب تندرست ہو گئے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چراوہے کو قتل کر ڈالا اور جانوروں کو ہانک لے گئے، ابتدا دن ہی میں (یہ) خبر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، چناچہ آپ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے اور دن چڑھے وہ (گرفتار کر کے) لائے گئے، آپ نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور گرم سنگلاخ پر ڈال دئیے گئے، پانی مانگتے تھے تو انہیں پانی نہیں پلایا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے چوری کی اور قتل کیا اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور ﷲ اس کے رسول سے لڑے-

No comments:

Post a Comment