Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1165


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
میت کے پاس جب وہ کفن میں رکھ دیاگیا ہو موت کے بعد جانے کا بیان
حدیث نمبر
1165
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی فَرَسِهِ مِنْ مَسْکَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّی نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُکَلِّمْ النَّاسَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّی بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَکَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَکَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ ثُمَّ بَکَی فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْکَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي کُتِبَتْ عَلَيْکَ فَقَدْ مُتَّهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُکَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسْ فَأَبَی فَقَالَ اجْلِسْ فَأَبَی فَتَشَهَّدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَکُوا عُمَرَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ وَمَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَی الشَّاکِرِينَ وَاللَّهِ لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَکُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَهَا حَتَّی تَلَاهَا أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا
بشر بن محمد، عبدﷲ ، معمرو یونس، زہری، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، ابوبکر رضی ﷲ عنہ اپنے گھوڑے پر مقام سخ سے آئے یہاں تک کہ گھوڑے سے اترے اور مسجد میں داخل ہوئے کسی سے گفتگو نہ کی یہاں تک کہ عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس پہنچے اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا قصد کیا، آپ کو یمنی چادر اڑھائی گئی تھی، آپ کے چہرے سے چادر اٹھائی پھر آپ پر جھکے اور آپ کے چہرے کو بوسہ دیا پھر روئے اور فرمایا اے ﷲ کے نبی آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، ﷲ آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں کرے گا، وہ موت آپ کے لئے مقدور تھی تو وہ آپ پر آچکی- ابوسلمہ کا بیان ہے کہ مجھے ابن عباس نے خبر دی کہ ابوبکر باہر نکلے اور عمر لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے ان سے کہا کہ بیٹھ جاؤ انہوں نے انکار کردیا پھر کہا کہ بیٹھ جاؤ انہوں نے پھر انکار کیا، چناچہ ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے تشہد پڑھا لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور عمر کو چھوڑ دیا کہا امابعد! تم میں سے جو شخص محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا- تو محمد صلی ﷲ علیہ وسلم وفات پاگئے اور جو ﷲ کی عبادت کرتا تھا تو ﷲ زندہ ہے، نہیں مرے گا، ﷲ تعالی نے فرمایا، ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔ شاکرین تک) بخدا اس سے پہلے لوگ گویا جانتے ہی نہ تھے کہ ﷲ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی لوگوں نے یہ آیت ان سے سن کر اخذ کی اور کوئی شخص سنا نہیں جاتا تھا مگر اس کی تلاوت کرتا تھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment