Friday, December 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1277


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
منافقین پر نماز پڑھنے، اور مشرکین کے لئے دعا ومغفرت کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
1277
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَی ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ فَلَمَّا أَکْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَی السَّبْعِينَ يُغْفَرُ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْکُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَائَةٌ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا إِلَی قَوْلِهِ وَهُمْ فَاسِقُونَ قَالَ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عبیدﷲ بن عبدﷲ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ عمربن خطاب، رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب عبدﷲ بن ابی سلول مرا تو اس کے لئے رسول ﷲ کو بلایا گیا تاکہ اس پر نماز پڑھیں جب رسول ﷲ کھڑے ہوئے تو میں آپ کی طرف چل پڑا اور میں نے کہا یا رسول ﷲ کیا آپ عبدﷲ ابن ابی پر نماز پڑھیں گے حالانکہ اس نے فلاں فلاں دن اس طرح اور فلاں فلاں بات کہی تھی اور میں اس کی باتوں کو شمار کرنے لگا- رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ مجھ سے پیچھے رہ، جب میں نے زیادہ سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے تو میں نے اختیار کرلیا اگر میں جانتا کہ اگر میں اس کے لئے ستر بار سے زیادہ دعا مغفرت کروں تو بخش دیا جائے گا تو میں اس کے لئے یقینا اس سے زیادہ کرتا- چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی- پھر واپس ہوئے اور تھوڑی دیر بھی نہ ٹھہرنے پائے تھے کہ سورۃ براۃ کی دو آیتیں نازل ہوئیں- (وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا  سےوَهُمْ فَاسِقُونَ ) تک عمر رضی ﷲ عنہ نے بیان کیا کہ اس دن میں نے جو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے بات کی مجھے اس پر تعجب ہوا اور ﷲ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment