کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
سوال سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1380
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ مَا يَکُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِز
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، اور ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کی ایک جماعت نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے کچھ مانگا- آپ نے ان کو دیدیا یہاں تک کہ جو کچھ تھا آپ کے پاس ختم ہوگیا- تو آپ نے فرمایا میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا، میں تم سے بچا نہیں رکھوں گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے تو ﷲ اسے بچا لیتا ہے جو شخص بے پروائی چاہے تو اسے ﷲ تعالی بے پرواہ بنا دے گا اور جو شخص صبر کرے گا ﷲ تعالی اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ تر نعمت نہیں ملی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment