Saturday, December 11, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1383


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
سوال سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1383
 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ يَا حَکِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی قَالَ حَکِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَکَ شَيْئًا حَتَّی أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُو حَکِيمًا إِلَی الْعَطَائِ فَيَأْبَی أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَی أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أُشْهِدُکُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَی حَکِيمٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا الْفَيْئِ فَيَأْبَی أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأْ حَکِيمٌ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تُوُفِّيَ
عبدان، عبدﷲ ، یونس، زہری، عروہ بن زبیر وسعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام نے بیان کیا کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے کچھ مانگا- تو آپ نے دیا- میں نے پھر مانگا تو آپ نے دیا- پھر فرمایا کہ اے حکیم یہ مال سرسبز وشاداب اور میٹھا ہے، جو اس کو سخاوت نفس کے ساتھ لے- تو اس میں برکت دی جاتی ہے اور جولالچ کے ساتھ اس کو لے تو اس میں برکت نہیں رہتی اور اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا- اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے- حکیم نے کہا میں نے عرض کیا، یا رسول ﷲ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا- میں آپ کے بعد کسی سے کچھ قبول نہیں کروں گا، یہاں تک کہ میں دنیا سے چلا جاؤں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ ان کو (وظیفہ) دینے کے لئے بلاتے ،تو وہ قبول کرنے سے انکار کردیتے ۔پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو (وظیفہ) دینے کے لئے بلایا تو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت میں تمہیں حکیم پر گواہ بناتا ہوں کہ میں اس مال میں سے حکیم کا حق اس کے سامنے پیش کرچکا ہوں،لیکن وہ لینے سے انکار کر رہے ہیں ۔چنانچہ حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بعد کسی شخص سے کچھ بھی قبول نہ کیا یہاں تک کہ وفات پائے



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment