Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:66,TotalNo:4717


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
مجرد رہنے اور اپنے تئیں نامرد بنانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
4717
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا شَيْئٌ فَقُلْنَا أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ وَأَنَا أَخَافُ عَلَی نَفْسِي الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَائَ فَسَکَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِکَ فَسَکَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِکَ فَسَکَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلَی ذَلِکَ أَوْ ذَرْ
قتیبہ بن سعید، جریر، اسماعیل، قیس کہتے ہیں عبد ﷲ (بن مسعودرضی ﷲ عنہ) کہتے ہیں کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے، چونکہ ہمارے پاس کچھ نہ تھا، اس لئے ہم نے عرض کیا یا رسول ﷲ! کیاہم خصی نہ ہوجائیں، تو آپ نے ہمیں اس فعل سے منع فرمایا پھر ہمیں ایک کپڑے کے عوض عورت سے نکاح کی اجازت دے دی، پھر آپ نے ہم پریہ آیت پڑھی، اے ایمان والو! وہ پاک چیزیں جو ﷲ نے تم پر حلال کی ہیں حرام نہ کرو اور زیادتی نہ کرو، کیوں کہ ﷲ تعالی زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، (دوسری سند) اصبغ، وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابی سلمہ، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا میں جوان ہوں، اور مجھے خوف ہے کہ مجھ سے زنا نہ ہوجائے اور مجھ میں نکاح کی طاقت نہیں، آپ نے کچھ جوا ب نہ دیا، میں نے پھر یہی عرض کیا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر عرض کیا، تب بھی آپ نے کچھ جواب نہ دیا، میں نے پھرا سی طرح عرض کیا، آخر آپ نے جواب دیا، ابوہریرہ جو کچھ تیری تقدیر میں تھا قلم (اسے لکھ کر) خشک ہوگیا، اب حکم الہٰی میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، چاہے تو خصی ہو یا نہ ہو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment